وَلی کی بے اد بی کاانجام - Kahaniyan Hi Kahaniyan

Breaking

Monday, December 4, 2023

وَلی کی بے اد بی کاانجام

   وَلی کی بے اد بی کاانجام 


                                                ایک شخص اِمام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی قبر پر آیااور ہاتھ سے اشارے کرکے کہنے لگا :تم وہی ہو جو امام اَوْزَاعِی سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ’’میں اس مسئلہ میں یہ کہتا ہوں ‘‘ ابھی وہ شخص اپنی جگہ سے کھڑا بھی نہ ہوا تھا کہ اسکے پاؤں پر بچھو نے ڈنک مار دیا ۔(اور یوں اسے ایک ولی کی گستاخی کی سزا ملی )


 بِلّی نے زبان کھینچ لی :

                                             ایک شخص آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خلاف بہت زیادہ باتیں کیا کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو جس جگہ اسے غسل دیاجا رہاتھا وہاں ایک بلّی آئی اور اس کی زبان کھینچ لی ۔ اس طرح یہ واقعہ لوگوں کے لئے عبرت بن گیا ۔


                                                اللہ عَزَّوَجَلَّہمیں اولیائے کرا م رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکی گستاخی وبے ادبی سے محفوظ رکھے۔ ان کے فُیُوض برکات سے مُسْتَفِیْض فرمائے ۔ ان کے صدقے ہمیں دینِ متین کی خوب خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (ملخصا ا زمنھاج السو ی فی ترجمۃ الامام النووی ملحق تہذیب الاسماء واللغات)

                                                حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سَیِّدُنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اللہ عَزَّوَجَلَّ تیرے ذریعے کسی ایک شخص کو ہدایت دے تو یہ تیرے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔(بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن ابی طالب، ۲/۵۳۴، حدیث۳۷۰۱)


                                                میں نے چاہا کہ احادیثِ صحیحہ پر مشتمل مختصر ایک ایسی کتاب تالیف کروں جو اپنے پڑھنے والے کے لئےآخرت کازادِ راہ اور ظاہری و باطنی آداب کے حصول کا ذریعہ بن جائے ۔ اور وہ کتاب ترغیب و ترہیب اور سَالِکِیْن کے تمام آداب کی اَنواع مثلاً زُہد، ریاضتِ نفس، تہذیبِ اخلاق، دلوں کی پاکیزگی، دلوں کے علاج، اعضا کی حفاظت اور ان کی کجی کے ازالے اور ان کے علاوہ دیگر اُن باتوں کو جامع ہوجو عارفین کا مقصدِ حیات ہیں۔

                        میں نے اس کتاب میں اس بات کا اِلتزام کیا ہے کہ اس میں صرف وہ صحیح احادیث کریمہ ذکر کروں گا جو حدیث کی مشہور کتابوں میں موجود ہیں۔ اور ابواب کی ابتدا آیاتِ قرآنی سے کروں گا ،جہاں  ضبطِ حرکات یا شرح کی ضرورت ہوگی وہاں حرکات لگادوں گا اور نفیس تشریح کردوں گا ۔جب میں کسی حدیث کے آخر میں ’’مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ‘‘ کہوں تو اس کا مطلب ہے کہ اس حدیث کو امام بخاری و امام مسلم (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہم  ا) نے روایت کیا ہے۔

                        میں امید کرتا ہوں کہ اگر یہ کتاب پایۂ تکمیل کو پہنچ گئی تو جو لوگ اسے اپنائیں گے ان کے لئے نیک اعمال کی رہنمائی، برائیوں اور مُہْلِکَات سے اِجتناب کا باعث بنے گی۔ جو مسلمان بھائی اس سے نفع حاصل کریں میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرے لئے میرے والدین، اساتذہ ، احباب اور تمام مسلمانوں کے لئے دعاکریں اللہکریم پر ہی میرا اعتماد ہے اور میرا سب کچھ اسی کے حوالے ہے ۔

                         اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کارساز ہے ۔ نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ عَزَّوَجَلَّ غالب و حکمت والے کی عطا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔



No comments:

Post a Comment

Popular Posts

nnnnn

2 - Naukri Addict Skip to content ...