سترہزار 70000کا بِلاحساب جنت میں داخلہ

جب سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کو ملاحظہ فرمایا تو کہا گیا کہ اِن کے ساتھ ستر ہزار 70000افراد ایسے ہیں جو بِلاحساب و عذاب جنت میں داخل ہوں گے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:”اِس میں دو اِحتمال ہیں ایک یہ کہ اُسی جماعت میں یہ لوگ بھی ہیں جو بغیر حساب جنت میں جائیں گے۔
دوسرے یہ کہ اُن کے علاوہ ستر ہزار وہ بھی ہیں جو بغیر حساب جنتی ہیں ۔ پہلا اِحتمال زیادہ قوی ہے، ستر ہزار سے مراد بے شمار لوگ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ خاص تعداد ہی مُراد ہو۔ یعنی ساری اُمَّت میں ستر ہزار بے حساب جنتی ہیں ۔
اِس دوسرے اِحتمال کی تائید اِس روایت سے ہوتی ہے کہ فرمایا: اُن ستر ہزار میں سے ہر شخص کے ساتھ سترستر ہزار ہوں گے۔ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت میں سب کا حساب نہ ہوگا، بعض لوگ حساب سے مستثنی ٰبھی ہوں گے۔
حدیثِ مذکور میں جنتیوں کی تین خصوصیات بیان کی گئی ہیں : (۱) نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں نہ کراتے ہیں ۔حضرت سَیِّدُنَاابو الحسن قابِسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ یہاں وہ جھاڑ پھونک مراد ہے جو لوگ زمانہ ٔ جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۔ ورنہ وہ دم وتعویذ جو کلامِ الٰہی پرمُشتمل ہو وہ شارِع عَلَیْہِ السَّلَامنے خود بھی کیا اور اُمَّت کو بھی اِس کی تعلیم دی اور ایسا دم وتعویذمقامِ تو کل سے نہیں نکالتا۔
دفالی نہیں لیتے۔ یعنی وہ پرندوں وغیرہ سے بدشگونی نہیں لیتے جیسا کہ اِسلام سے پہلے اُن کی عادت تھی۔ بد شگونی شر میں ہوتی ہےجبکہ فال خیر میں ۔حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فال (نیک شگون) کو پسند فرماتے تھے۔
اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں ۔ اَسباب اختیار کرتے ہوئے کسی کام کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کردینا ”توکل“ کہلاتا ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں بِلا عذاب و حساب جنت میں داخلے کی خوشخبری دی گئی ہے اگر وہ ظالم اور گناہ گار ہوں کیا پھر بھی جنت میں داخل ہوں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ اِن اَوصاف کے ساتھ ساتھ عدل و اِنصاف کرنے والے اور گناہوں سے بچنے والے بھی ہوں گے۔ یا پھر اِن اَوصاف کی بدولت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُن کے گناہ بخش دے گا اور اُن کی خطائیں مٹا دے گا۔
No comments:
Post a Comment