وقت کی قدر - Kahaniyan Hi Kahaniyan

Breaking

Sunday, December 3, 2023

وقت کی قدر

Hit Enter Key

To scroll down smoothly while you record your screen

Hit Enter to Pause

Once you're done showcasing this screen,
hit Enter again to continue scrolling

Another section

Pause if you wish to (by hitting Enter).
Resume once done

 وقت کے قدر دان کبھی بھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ۔امام نوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کبھی بھی اپنا وقت ضائع نہ کرتے تھے نہ دن میں نہ رات میں حتی کہ راستے میں آتے جاتے ہوئے بھی کسی کتاب کا مطالعہ یا تکرار جاری رکھتے ۔اس طرح آپ نے کئی سال تحصیل علم میں گزارے ۔


آپ نے اوقات کی تقسیم بندی کی ہوئی تھی۔ تمام وقت خیر کے کاموں میں ہی صرف ہوتاتھا ۔ تصنیف وتالیف ،تدریس ،نوافل، تلاوتِ قراٰن ، اُمور ِآخرت میں غور وفکر، اوراَمْرٌ بِالْمَعروف و نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر (یعنی نیکی کی دعوت دینے اور برائیوں سے منع کرنے ) کے لئے آپ کے اوقات مقرر تھے ۔

امام نوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے کثرت مطالعہ کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ علامہ کمال   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی علیہ’’اَلْبَدْرُ السَّافِر وَتُحْفَۃُ الْمُسَافِر‘‘ میں فرماتے ہیں : ایک مرتبہ امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوالِی کی مشہور کتاب ’’اَلْوَسِیْط‘‘ میں کسی مسئلے پر امام نوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے میرا اختلاف ہو ا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم مجھ سے اس کتاب کے مسئلے میں جھگڑتے ہوجس کا میں نے چار سو مرتبہ مطالَعہ کیا ہے!

      آپ نے علمِ فقہ  ابو ابراہیم اسحاق بن احمد بن عثمان مَغْرَبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے حاصل کیا آپ ان کا بہت زیادہ ادب واحترام کرتے ۔ انہیں وضو و طہارت کے لئے پانی بھرکر دیا کرتے ۔ آپ ان سے جو کتب پڑھتے زمانۂ طالب علمی میں ہی ان کی شرح لکھتے اور مشکل مقامات حل کرتے ۔ جب استاد نے آپ کی علمی کوششیں اور دنیاسے بے رغبتی دیکھی تو آپ پر خصوصی شفقت فرمائی اور آپ کو اپنے حلقے کا ’’مُعِیْدُالدَّرْس‘‘بنا لیا ۔یعنی آپ استاد سے پڑھا ہو ا سبق حلقے میں دُہرایا کرتے ۔

                                                جب آپ اپنے والد صاحب کے ساتھ حج کے لئے حَرَمَیْن طَیِّبَیْن روانہ ہوئے تو آپ کو بخار آگیا جو عَرَفَہ تک جاری رہا لیکن اس شدید تکلیف کے باوجود آپ نے کبھی بھی بے صبری کا مظاہرہ نہ کیا۔ زیارتِ حَرَمَیْن طَیِّبَیْن  کے بعد جب آپ دِمَشْق آئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ پر علم کی برسات فرما دی ۔آپ کو دو مرتبہ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔

                                                امام نوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکا ذکر نہایت ادب واحترام اور تعظیم کے ساتھ کرتے اور ان کے فضائل ومناقب بیان فرماتے ۔

               ایک مرتبہ امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے رُفَقاء نے آپ سے عرض کی : بروزِقیامت ہمیں بھول نہ جانا۔آپ نے فرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے وہاں کوئی مقام ومرتبہ عطا فرمایا تو میں اس وقت تک جنت میں ناجاؤں گاجب تک اپنے جاننے والوں کو جنت میں داخل نہ کروالوں۔


No comments:

Post a Comment

Popular Posts

nnnnn

2 - Naukri Addict Skip to content ...